بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کے بینکاک میں منعقدہ سالانہ اجلاس کے بعد عالمی سطح پر معاشی خدشات اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کی کشیدگی کی وجہ سے سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ بھی ان عالمی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہے جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مقامی نرخوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
پاکستان کے اہم شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سونے کی قیمتیں عالمی بلین مارکیٹ کے تابع ہیں۔ اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور پاکستانی روپیہ متوازن نظر آتا ہے، لیکن عالمی سطح پر سونے کی بلند قیمتوں کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹ میں 24 کیرٹ سونے کا نرخ اونچی سطح پر قائم ہے۔ زیورات کی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کار سونے کی اینٹوں اور سکوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی مارکیٹ میں توانائی کے شدید بحران، شرح سود کی ممکنہ تبدیلیوں اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے نے سونے کی فی اونس قیمت کو سہارا دیا ہوا ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی قرضوں میں اضافے اور معاشی سست روی کی وجہ سے سرمایہ کار اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں، جس سے سونے کے بین الاقوامی اسپاٹ ریٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں۔ عالمی تنازعات کے دوران قیمتوں میں عارضی اتارا چڑھاؤ ممکن ہے، اس لیے ایک ساتھ بڑی خریداری کے بجائے قسط وار یا چھوٹی مقدار (24 کیرٹ بسکٹس) میں سرمایہ کاری کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔