عالمی میکرو اکنامک تبدیلیوں اور امریکی تجارتی پالیسیوں کے باعث آج پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں تازہ خریدارانہ دلچسپی دیکھی گئی۔ صنعتی ٹیرف اور عالمی افراط زر کے خدشات کے پیش نظر، قیمتی دھاتیں استحکام کی تلاش میں سرگرم سرمایہ کاروں کے لیے پہلی ترجیح بنی ہوئی ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں عالمی مارکیٹ اور روپے کی قدر کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا۔ ملکی افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث مقامی جیولرز اور خریدار 24 کیپٹ سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ اونچی قیمتوں کے باوجود شادی بیاہ کے سیزن اور تحفظ کے پیش نظر سونے کی طلب برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمتیں بلندی کے قریب رہیں، کیونکہ عالمی تجارتی کشیدگی اور ٹیرف کے خدشات نے اسٹاک مارکیٹوں کو متاثر کیا۔ صنعتی مواد پر بڑھتے ہوئے ٹیرف نے افراط زر کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس سے سرمایہ کار سونے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، امریکی فیڈرل ریزرو کی مالیاتی پالیسی اور ڈالر کے اتراؤ چڑھاؤ نے قیمتی دھاتوں میں نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ سونے کی خرید کے دوران تدریجی سرمایہ کاری کا طریقہ اپنائیں۔ عالمی اسپاٹ قیمتوں اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر مختصر مدت کی قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں کو کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کے لیے سونے کی اینٹوں کو ترجیح دینی چاہیے۔