عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نیا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار ایشیائی معیشتوں میں مالیاتی پالیسیوں کی تبدیلی اور بانڈ مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں لی ہیونگ ال جیسے تجربہ کار ٹیکنوکریٹ کو مالیاتی سربراہ مقرر کیے جانے اور مرکزی بینکوں کی سخت پالیسیوں جیسے اقدامات عالمی کرنسی اور اجناس کی مارکیٹوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے سونے کی بحیثیت محفوظ سرمایہ کاری اہمیت برقرار ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 24 کیرٹ سونے کے نرخ میں اعتدال پسندانہ ردوبدل دیکھا گیا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے صرافہ بازاروں میں روپئے کے مستحکم تبادلے کے نرخ نے سونے کی قیمتوں کو اچانک شیدید اضافے سے روکے رکھا ہے۔ تاجروں اور زرگروں کے مطابق مقامی سطح پر مانگ زیادہ تر شادی بیاہ کی سیزنل خریداری تک محدود ہے جبکہ عام سرمایہ کار عالمی مارکیٹ کی سمت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا مضبوط سطحی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مختلف صنعتی ممالک میں سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح اور مرکزی بینکوں کی سود کی پالیسیوں کے باعث سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ سود کی پالیسی اور امریکی ڈالر کی قدر بھی عالمی سطح پر سونے کے نرخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ بازار کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر مرحلہ وار خریداری (Dollar-Cost Averaging) کی حکمت عملی اپنائیں۔ اگرچہ طویل المدتی بنیادوں پر سونا ایک محفوظ اثاثہ ہے، لیکن عالمی بانڈ مارکیٹ کے دباؤ اور روپے کی قدر میں تبدیلی کے باعث مختصر المدت اتار چڑھاؤ کا امکان موجود رہتا ہے۔