خیبر پختونخوا میں آئین کی دفعات 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی مانگ میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور پیدا ہونے والے انتظامی بحران کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کا رخ کر لیا ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کے پی میں سیاسی تبدیلیوں کے باعث روپیہ پر دباؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ 24 کیپٹ سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سرمایہ کار اور عام خریدار کرنسی کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے سونے کی اینٹوں اور کوائنز کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے منتظر ہونے کی وجہ سے ایک محدود رینج میں ہے، لیکن پاکستان میں سونے کے نرخ بین الاقوامی قیمتوں سے زیادہ مقامی روپے کی قدر اور درآمدی اخراجات سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی استحکام کے باوجود مقامی سطح پر روپے کی قدر میں ممکنہ کمی کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
موجودہ غیر یقینی سیاسی اور معاشی ماحول میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اگرچہ سونا طویل المدتی بنیادوں پر افراط زر اور معاشی بحران کے خلاف ایک بہترین تحفظ ہے، تاہم موجودہ سورتحال میں یکمشت سرمائے کے بجائے مرحلہ وار خریداری کرنا زیادہ سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔