عالمی مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد پاکستان میں سونے کے نرخوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے سونے کو محفوظ ترین اثاثہ قرار دیتے ہوئے خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
مقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 کیراط اور 22 کیراط سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت بڑھنے کی وجہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سونے کے نرخ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے عام خریداروں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی اسپاٹ قیمتوں میں بڑا اچھال دیکھا گیا۔ ایران اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں نے رسک فیکٹر سے بچنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے، جس نے فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے اثرات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ مشورہ ہے کہ وہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں ہوشیار رہیں۔ اگرچہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال سونے کی قیمتوں کو اوپر رکھے گی، لیکن کسی بھی سیاسی یا سفارتی پیش رفت سے قیمتوں میں اچانک کمی کا امکان بھی موجود ہے۔ اس لیے قلیل مدتی سرمایہ کاری میں محتاط حکمت عملی اپنائی جائے۔