پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت افراط زر کی شرح کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گئی ہے، جو جون میں 11.07 فیصد تھی۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں معمولی کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم، سونے کو پاکستان میں افراط زر کے خلاف ایک مضبوط تحفظ سمجھا جاتا ہے، اس لیے سرمایہ کار آئندہ کے معاشی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں افراط زر کی رپورٹ کے بعد محتاط تجارتی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ اگرچہ افراط زر میں کمی سے سونے کی ہنگامی خریداری میں کمی آتی ہے، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اگست میں دوبارہ مہنگائی بڑھنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ مزید برآں، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام انتہائی اہم ہے، کیونکہ روپے کی قدر میں کوئی بھی کمی مقامی مارکیٹ میں 24 کیرٹ اور 22 کیرٹ سونے کی قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی سطح پر، فیڈرل ریزرو کی شرح سود کے حوالے سے پالیسیوں کے باعث عالمی اسپاٹ گولڈ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ عالمی مرکزی بینک افراط زر میں کمی اور معاشی ڈیٹا پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے فی اونس سونے کی قیمت مستحکم ہے۔ مقامی صرافہ ایسوسی ایشنز عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے مطابق فی تولہ نرخوں کا تعین کر رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی برقرار رہے۔
خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے افراط زر میں عارضی کمی ایک مناسب موقع فراہم کرتی ہے۔ چونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے آنے والے دنوں میں دوبارہ مہنگائی کا خدشہ ہے، اس لیے فزیکل گولڈ اور 24 کیرٹ بسکٹس میں سرمایہ کاری رقم کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ یکمشت خریداری کے بجائے تدریجی خریداری کی حکمت عملی اپنائیں اور روزانہ کے صرافہ نرخوں پر نظر رکھیں۔