پاکستان میں حساس قیمتوں کے اشاریئے (ایس پی آئی) کے مطابق قلیل مدتی افراط زر میں سالانہ کی بنیاد پر 9.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایندھن اور بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کے نرخوں کو نئی تقویت مل رہی ہے اور سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کی خرید و فروخت میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے اہم صرافہ بازاروں پر معاشی تبدیلیوں کے براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس سے بنیادی اشیاء کی قیمتیں بلند ہوئی ہیں۔ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری اپنی بچتوں کو افراط زر کے اثرات سے بچانے کے لیے 24 کیرٹ سونے کے بسکٹ اور بارز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ امریکی فیڈرل ریزرو کی مالیاتی پالیسی اور عالمی معاشی صورتحال کے اشاروں کے مطابق محدود حد میں گردش کر رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتیں بین الاقوامی شرح کے ساتھ ساتھ مقامی افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
ہفتہ وار بنیادوں پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر، سونا پاکستان میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین اور محفوظ ذریعہ برقرار ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں اور شادی بیاہ کے خریداروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ مارکیٹ میں آنے والی معمولی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تدریجی خرید و فروخت کی حکمت عملی اپنائیں۔