پاکستان میں سونے کے نرخ آج استحکام کے ساتھ ٹریڈ ہوئے کیونکہ معاشی دباؤ اور 5.9 کھرب روپے تک پہنچنے والے ریکارڈ سرکاری قرضوں نے مجموعی مالیاتی منظر نامے کو متاثر کیا ہے۔ نجی شعبے کے قرضوں میں کمی کے باعث مقامی خریدار اپنے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 کیرٹ سونے کی طلب برقرار رہی۔ حکومت کی جانب سے بینکوں سے مسلسل قرضہ گیری نے افراط زر کے خدشات اور روپے کی قدر پر دباؤ کو برقرار رکھا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سرمایہ کار اپنی بچتوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کاغذی کرنسی کے بجائے سونے کے بسکٹ اور اینٹوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا امریکی فیڈرل ریزرو کی سود کی شرح سے متعلق پالیسیوں کے باعث ایک مخصوص حد میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت اور روپیہ بمقابلہ امریکی ڈالر کی شرح مبادلہ ہی پاکستان میں سونے کی روزانہ کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے سونا افراط زر اور مالیاتی عدم استحکام کے خلاف تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ مصدقہ نرخوں پر ہی 24 کیرٹ سونے میں طویل مدتی حکمت عملی کے تحت خریداری کریں۔