کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے اہم شہروں میں آج سونے کی قیمتوں میں خرید و فروخت کا مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیک شعبے کے خدشات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار ایک بار پھر محفوظ اثاثے یعنی سونے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں 24 کیرٹ سونے کے نرخ عالمی مارکیٹ اور مقامی اقتصادی اشاریوں کے مطابق بلند سطح پر برقرار ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ اور 10 گرام سونے کی قیمتوں میں استحکام اور نفع بخش رجحان دیکھا گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر اور ملک میں افراط زر کے دباؤ نے بھی سونے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ جہاں شادیوں کے سیزن کی وجہ سے زیورات کی طلب موجود ہے، وہیں سرمایہ کار اپنی بچتوں کو محفوظ بنانے کے لیے بسکٹ اور سکوں کی شکل میں خام سونا خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا (XAU/USD) اہم ترین سطح پر مستحکم رہا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی سود کی شرح کے حوالے سے پالیسی، عالمی سیاسی تناؤ اور ٹیک حصص میں اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار محتاط انداز اپنا رہے ہیں۔ امریکہ میں شرح سود اور ڈالر انڈیکس کی نقل و حرکت آنے والے دنوں میں سونے کے نرخوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور طویل المدتی سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ صورتحال تدبر سے قدم اٹھانے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی خبروں اور روپے کی قدر کے باعث سونا عارضی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن یہ مالیاتی تحفظ کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی بڑی خریداری سے قبل روزانہ کے صرافہ ریٹ لازمی دیکھیں۔