بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایم ڈی کرسٹالینا گورگیوا کی جانب سے توانائی کے صدمات اور عالمی مالیاتی خدشات پر بیانات کے بعد پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی مانگ برقرار ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ (24 کیرٹ) اور 10 گرام سونے کی قیمتیں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر اور مقامي طلب کے تابع ہیں۔ ملک میں جاری افراط زر اور آئی ایم ایف کی اصلاحات کے پیش نظر، مقامی سرمایہ کار کرنسی کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے سونے کو ایک محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا اہم سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگرچہ عالمی معیشت نے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا ہے، لیکن بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور مالیاتی خسارے خدشات کا باعث ہیں۔ یہ صورتحال مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور سونے کی بحیثیتِ محفوظ اثاثہ مانگ کو تقویت دے رہی ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ حالات تدریجی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل عالمی بلین مارکیٹ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔