جولائی میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں 13 فیصد اضافے اور 3.6 ارب ڈالر کی آمد سے روپے کو مضبوطی ملی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سونے کی مارکیٹ میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ نے مالیاتی مارکیٹوں میں اعتماد بحال کیا ہے جس سے مقامی صرافہ بازار میں قیاس آرائیوں پر مبنی خرید و فروخت میں کمی آئی ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
خاص طور پر مڈل ایسٹ سے ترسیلات زر کی بہترین آمد نے پاکستانی روپے کو سہارا دیا ہے، جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 کیرٹ سونے کی قیمتیں مستحکم سطح پر موجود ہیں، اور روپے کی مضبوطی نے عالمی مارکیٹ کے جھٹکوں کو مقامی سطح پر منتقل ہونے سے روکا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں امریکی فیڈرل ریزرو کی سود کی شرح کے فیصلوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر بلین مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، لیکن پاکستان کے بہترین بیرونی کھاتوں نے مقامی بازار کو عارضی تحفظ فراہم کیا ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
سرمایہ کاروں اور عام خریداروں کے لیے موجودہ مارکیٹ ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر سونے کا طویل مدتی رجحان مثبت ہے، لیکن ملک میں ترسیلات زر کے باعث حاصل ہونے والا استحکام قیمتوں کو محدود دائرے میں رکھے گا۔ خریداروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قیمتوں اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار پر نظر رکھیں۔