بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، جہاں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کی افواہیں دم توڑنے لگی ہیں۔ اسپاٹ گولڈ 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4,391.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا جبکہ دسمبر کی تحویل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.2 فیصد اضافے سے 4,451.90 ڈالر ہو گئے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ اور 10 گرام سونے کے نرخوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مقامی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ریٹیل خریدار محتاط ہیں، تاہم سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کی غرض سے سونے کی طلب اب بھی برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی مارکیٹ میں امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ میں روزگار کے کمزور اعدادوشمار کے بعد سونے کی قیمتوں میں جنوری کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔ اب تمام نظریں امریکہ کے آنے والے افراطِ زر (سی پی آئی) کے اعداد و شمار پر ٹکی ہوئی ہیں۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھیں۔ عالمی قیمتوں میں مزید ممکنہ اضافے سے قبل حکمت عملی کے تحت خریداری کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ طویل مدتی سرمایہ کار کسی بھی عارضی کمی کا فائدہ اٹھا کر ہجنگ کر سکتے ہیں۔