بدھ 19 اگست 2026 کو عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں استحکام اور اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید سخت پالیسی نہ اپنانے کے امکانات کے باعث عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی طلب میں اضافہ ہوا جس کے اثرات پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں بشمول کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں فی تولہ اور 10 گرام سونے کی قیمتوں میں عالمی رجحان کے مطابق اضافہ دیکھنے میں آیا۔ روپیہ کی قدر میں نسبتاً استحکام کے باوجود بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتری نے مقامی قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ اور سلور کی قیمتوں میں ابتدائی کاروباری سیشن کے دوران تیزی دیکھی گئی۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود نہ بڑھانے کے اشاروں نے بغیر سود کے اثاثوں یعنی سونے اور چاندی کی کشش کو بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کار قیمتی دھاتوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستانی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ موجودہ صورتحال سونے کو افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف بہترین تحفظ فراہم کرتی ہے۔ خریدار روزانہ کی بنیاد پر صرافہ ایسوسی ایشن کی جاری کردہ قیمتوں پر نظر رکھیں اور تدریجی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی حکمت عملی اپنائیں۔