پاکستان میں سونے کے نرخ آج استحکام کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ مقامی سرمایہ کار وزیر اعظم شہباز شریف کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے تحت بینکنگ سیکٹر کی جانب سے کریڈٹ کی فراہمی بڑھانے کی ہدایات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کے متوقع اضافے کے باعث سرمایہ کار ممکنہ افراط زر سے بچاؤ کے لیے سونے کو ایک بہترین محفوظ سرمایہ کاری قرار دے رہے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں روپئے کی قدر اور مقامی زیورات کی طلب سے منسلک ہیں۔ ماہرین کے مطابق زرعی اور ایس ایم ای سیکٹر کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، جس سے سونے کی طلب میں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، روپئے کی قدر میں کسی بھی ممکنہ اتار چڑھاؤ کے پیش نظر سونے میں سرمایہ کاری کی مقبولیت برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمتیں ایک مخصوص حد میں کاروبار کر رہی ہیں، جہاں امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور عالمی حالات کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔ مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری اور جیوپولیٹیکل تحفظات کے باعث عالمی سطح پر سونے کا رجحان مضبوط ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ مارکیٹ متوازن موقع فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ طویل مدتی معاشی منصوبے ملک میں ترقی کو فروغ دیں گے، لیکن افراط زر کے خدشات کے پیش نظر سونا ایک محفوظ اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خریداروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ روزانہ کے سرکاری نرخوں پر نظر رکھیں اور مناسب وقت پر تدریجی خریداری کریں۔