عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری اور خام تیل کی قیمتوں میں عارضی ٹھہراؤ کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی صرافہ منڈی کے تاجر اور سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے متوقع مانیٹری پالیسی فیصلے کے منتظر ہیں، جہاں 25 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے تحفظ اور عالمی شرح سود کے اثرات سونے کی قیمتوں پر یکساں طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 کیرٹ اور 22 کیرٹ سونے کی قیمتیں بین الاقوامی منڈی اور پاکستانی روپے کی قدر کے مطابق حرکت کر رہی ہیں۔ ملک میں افراط زر کی اعلیٰ سطح کے باعث خریدار اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم آنے والے دنوں میں شرح سود کے واضح اشاروں تک خریدار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی منڈی میں یورپی شیئرز کی بحالی اور تیل کے بوجھ میں کمی کی وجہ سے سونے کی قیمت پر جزوی دباؤ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، ایران تنازع اور دیگر جغرافیائی خطرات کے سبب افراط زر کے خطرات اب بھی موجود ہیں جس سے سونے کو سہارا مل رہا ہے۔ CME FedWatch ٹول کے مطابق فیڈ کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ 93 فیصد تک متوقع ہے، جس سے ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستانی سرمایہ کاروں اور جیولری کے خریداروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے دوران غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مرحلہ وار خریداری (Rupee-Cost Averaging) کریں۔ روپیہ کی قدر اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھنا ہوشیار فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہے۔