پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں اس وقت بین الاقوامی اور مقامی معاشی عوامل کا گہرا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) کے ذریعے ماہانہ آمد 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 300 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کی محفوظ منتقلیاں ہیں۔ ایک طرف جہاں ان فنڈز کی آمد سے پاکستانی روپے کی قدر کو سہارا مل رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی بے یقینی کے باعث سونے کی بحیثیت محفوظ سرمایہ کاری مانگ برقرار ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے کیپٹل کی آمد سے روپے پر دباؤ کم ہوا ہے، جس نے مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں کو اچانک بہت بڑے اضافے سے روکا ہوا ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے ریئل اسٹیٹ سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے بعد، خریدار سونے کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 24 کیرٹ سونے کی قیمتوں میں مقامی کرنسی کی استحکام اور مہنگائی کے خلاف تحفظ کی خواہش کا توازن نظر آتا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے (XAU/USD) کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق پالیسیوں کے تابع ہیں۔ علاقائی تنازعات کے باعث عالمی سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کا رخ کر رہے ہیں جس سے عالمی بلین مارکیٹ کو مضبوط سہارا مل رہا ہے۔ یہ عالمی تیز رفتاری براہ راست پاکستان کی مقامی صرافہ قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
پاکستانی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال محتاط حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ روپے میں عارضی استحکام کے باوجود عالمی تنازعات کے پیش نظر سونے کو ایک بہترین تحفظ سمجھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ یکمشت خرید کے بجائے قیمتوں میں کمی کے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 24 کیرٹ بسکٹس یا سکوں میں مرحلہ وار سرمایہ کاری کریں۔