اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کی جانب سے معاشی استحکام اور افراط زر میں 5 سے 7 فیصد تک کمی کی پیش گوئی کے بعد پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، جب مہنگائی اور روپے کی قدر میں شدید کمی کے باعث شہری سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ کر تیزی سے خریدتے تھے، اب معاشی استحکام کے باعث سونے کے نرخ ایک متوازن سطح پر برقرار ہیں۔
مقامی صرافہ مارکیٹ پر اثرات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 24 قیراط سونے کی قیمتوں پر روپے کی مستحکم قدر کا گہرا اثر پڑا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کے ریکارڈ حجم نے زر مبادلہ کی شرح کو سہارا دیا ہے، جس سے درآمدی لاگت مستحکم رہی ہے۔ شادیوں کے سیزن کے باعث زیورات کی طلب تو موجود ہے مگر پینک بائنگ یعنی خوف کے تحت ہونے والی خریداری میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے عام خریداروں کو ریلیف ملا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے رجحانات
عالمی مارکیٹ میں سونے کے فی اونس نرخ امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل حالات کے زیر اثر ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود، روپے کے مضبوط رہنے سے پاکستان میں سونے کے نرخوں پر شدید جھٹکے نہیں لگ رہے۔ یہ عمل مقامی تاجروں اور صارفین کے لیے قیمتوں کے تعین کو شفاف بناتا ہے۔
خریداروں کے لیے اہم خلاصہ
سونے کے خریداروں اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ مارکیٹ حالات بتدریج خریداری کے لیے موزوں ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ یکمشت بڑی خریداری کے بجائے قیمتوں میں معمولی کمی پر مرحلہ وار سرمایہ کاری کی جائے، کیونکہ روپے کے استحکام کے باعث قیمتوں میں فوری طور پر کسی بڑے اضافے کا امکان محدود ہے۔